cpne logo

مورخہ: 22 اگست 2016ء

مدیران و کارکن صحافیوں کو فوری سکیورٹی کی فراہمی اور آزادی صحافت کے لئے اقدامات کئے جائیں
سی پی این ای کا سائبر کرائمز بل پر تحفظات اور خدشات کا اظہار
خیبرپختونخواہ کے مدیران کا صوبائی میڈیا ایکٹ 2013 ء کے خاتمے کا مطالبہ
سی پی این ای کے زیر اہتمام میڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا فیصلہ
سی پی این ای کا ۲؍کروڑ روپے گرانٹ کے اجراء اور صوبائی سیکریٹریٹ کے لئے قطعہ اراضی دینے کی آمادگی پر اظہار تشکر

پشاور (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز( سی پی این ای) نے سائبر کرائمز بل ، اخباری صنعت کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال، عدم تحفظ اور آزادی صحافت پر پابندیوں جیسے مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی بالخصوص علاقائی اخبارات کا معاشی تحفظ کیا جائے مالکان و کارکن صحافیوں کو فوری سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ یہ مطالبہ سی پی این ای کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پشاور میں اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں قومی اخبارات خصوصاً خیبرپختونخوا کے درمیانے اور چھوٹے اخبارات و جرائد کے مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ اجلاس کی صدارت سی پی این ای کے صدر جناب ضیاء شاہد نے کی۔ اجلاس میں سائبر کرائمز بل پر شدید تحفظات اور خدشات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیاہے کہ میڈیا کی مختلف تنظیموں اورآئینی و قانونی ماہرین کے ساتھ مل کر سائبر کرائمز بل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ سائبر کرائمز بل کی ان شقوں کی نشاندہی کی جاسکے جس سے اظہار رائے کی آزادی کو گزند پہنچتی ہو۔ اس حوالے سے متفقہ طور پر قرار داد کی منظوری دی گئی۔قرار داد میں آزادی صحافت، آزادی اظہار، معلومات تک رسائی، آگہی اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ان تمام حقوق کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر قدغن لگانے کا جواز فراہم نہ ہو۔ قرارداد میں آزادی اظہار کے مادر پدر، بے لگام، غیراخلاقی، غیر آئینی، غیر قانونی، جمہوریت دشمن، سماج دشمن استعمال کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے مناسب قانون سازی اور ضروری اقدامات کی حمایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں اخبارات کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ خصوصاً درمیانے اور چھوٹے میڈیا ہاؤسز کو مضبوط کرنے کے لئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جائیں گے۔ اس موقع پر سی پی این ای کے زیر اہتمام میڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت ،اداروں اور صوبائی حکومتوں پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مدیران نے صوبائی حکومت سے اخبارات کو میڈیا لسٹ سے ہٹانے اور سرکاری اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر، ڈسپلے اشتہارات میں مقامی اخبارات کی شمولیت سمیت دیگر مسائل پر غور کیا گیا اور صوبائی میڈیا ایکٹ 2013 ء کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ صوبائی مشیر اطلاعات مشتاق غنی اور سیکرٹری اطلاعات طاہر حسن نے اجلاس میں خصوصی دعوت پر شرکت کی اور صحافیوں، مدیران اور علاقائی اخبارات کو درپیش مسائل حل کرنے اور مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کی مدد کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ میڈیا سیل قائم کیا ہے اور بجٹ میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے خطیر رقم بھی مختص کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی ملک بھر کا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل اعجاز الحق (روزنامہ ایکسپریس)، نائب صدور رحمت علی رازی (روزنامہ طاقت)،سید ہارون شاہ(روزنامہ وحدت پشاور)، انور ساجدی (انتخاب )، غلام نبی چاندیو(روزنامہ پاک)، عرفان اطہر قاضی جوائنٹ سیکرٹری(روزنامہ تجارت )، طاہر فاروق اطلاعات سیکریٹری(روزنام اتحاد)، سینئر اراکین جناب عارف نظامی، جناب جمیل اطہر قاضی، بزرگ ایڈیٹروں پیر سفید شاہ ہمدرد، جناب شریف فاروق، ڈاکٹر جبار خٹک (عوامی آواز)، مشتاق احمد قریشی(ماہنامہ نئے افق) عارف بلوچ (بلوچستان ایکسپریس)، وقار یوسف عظیمی (روحانی ڈائجسٹ )، عبدالرحمن منگریو(روزنامہ انڈس پوسٹ) احمد اقبال بلوچ( ماہنامہ ویژنری)، خلیل الرحمن (روزنامہ اسلام)، تنویر شوکت(روزنامہ غریب)، کاظم خان (روزنامہ ڈیلی ٹائمز)، ممتاز احمد صادق (روزنامہ آزادی سوات)، بشیر احمد میمن (روزنامہ نجات)، عظمت خان داؤد زئی(روزنامہ پیغامات)، اشرف ڈار (روزنامہ عوام الناس)، سید قیصر رضوی (روزنامہ جدت)، عمران اطہر قاضی( روزنامہ جرأت)، طارق سعید (پاکستان آبزرور)، وزیر زادہ(روزنامہ انتباہ)، رشید اقبال (روزنامہ چاند)، عدنان ظفر( روزنامہ آج )، مسعود خان (روزنامہ ریاست پشاور)، فدا خٹک (روزنامہ نئی بات)، جاوید خان آفریدی (روزنامہ پیام خیبر)، فرید اللہ خان(روزنامہ اوصاف)، نعیم مصطفی (روز نامہ پاکستان ) اورمعارج فاروق (روزنامہ اتحاد) سمیت خیبرپختونخوا کے مدیران نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک نے اپنی رہائش گاہ پر خصوصی عشائیہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اخبارات کو درپیش تمام مسائل حل کرے گی اور قومی و علاقائی اخبارات کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے آزادانہ و منصفانہ میڈیا پالیسی پر عمل کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ اطلاعات سی پی این ای کے تعاون سے تمام اخبارات کو اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کا قابل قبول طریقہ کار طے کرے گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سی پی این ای کے اراکین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کے درمیان مستقل رابطوں کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ تعلق مستقل بنیادوں پر قائم رہے اور خیبرپختونخوا کے عوام کی آواز قومی سطح پر بلند ہوسکے۔ اس موقع پر سی پی این ای کے صدر ضیا شاہدنے سی پی این ای کو پہلے سے منظور شدہ 2 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ دینے کی سمری منظور کرنے اور سی پی این ای صوبائی سیکرٹریٹ کے لئے اراضی دینے کی یقین دہانی پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔عشائیہ میں صوبائی مشیر اطلاعات جناب مشتاق غنی، صوبائی وزیر جناب شاہ فرمان، سیکرٹری اطلاعات طاہر حسن اور میڈیا کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

pic-with-captions