کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے تحت 10 مارچ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو لأ یونیورسٹی میں جاننے کے حق کے بارے میں ایک آگہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ سی پی این ای کے فنانس سیکرٹری اور روزنامہ امن کے ایڈیٹر حامد حسین عابدی نے باضابطہ طور پر شرکأ کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے (سی پی این ای) کے اغراض و مقاصد اور جاری منصوبوں سے شرکأ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ایڈیٹرز اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے سی پی این کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سی پی این ای پریس کی آزادی کے حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت، قانون ساز اداروں، وکلأ اور سول سوسائٹی کو شہریوں کے جاننے کے حق کا قانون سندہ میں نافذ کرنے کے لیے متحرک کررہی ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو لأ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جسٹس (ر) قاضی خالد علی نے سندھ میں جاننے کے حق کے قانون کی تاریخ اور موجودہ صورتحال کے بارے میں فکر انگیز اور شاندار تقریب کے انعقاد پر سی پی این ای کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ( سی پی این ای) کے پروگراموں کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں طالبعلموں اور فیکیلٹی ممبران کا سیمینار میں بھر پور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔سماجی تنظیم شہری کے رکن ڈاکٹر سید علی گردیزی نے جاننے کے حق کے تاریخی پس منظر بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ ڈاکٹر رضا نے کہا کہ جاننے کے حق کا قانون “دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے، دنیا میں 105 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے شفافیت اور اچھی حکمرانی کو فروغ دینے کے جاننے کے حق کےقانون کو نافذ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1946 میں جاننے کے حق کو بنیادی انسانی حق قرار دیا۔ جاننے کے حق کا قانون ہی صرف وہ قانون ہے جو شہریوں کے ہر حق کا دفاع کرتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19-A جاننے کے حق کا احاطہ کرتا ہے۔ عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ہر شہری کو قانون کی طرف سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے ساتھ جاننے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے قانونی ماہرین اور سندھ شہریوں کے جاننے کے حق کے حوالے سے قانون کا ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو سندھ اسمبلی سے منظور کروایا جائے۔ پراجیکٹ مینجر سی پی این ای عبدالرحیم موسوی نے اس پروگرام کےمقصد اور جاننے کے حق کے بارے میں آگہی کے حوالے سے سامعین کو معلومات فراہم کیں اور (سی پی این ای) کے جاننے کے حق کےجاری پروجیکٹ کے اغراض و مقاصد کی تشریح کی اور اس پروجیکٹ میں میڈیا کے کردار اور نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔ آپ نے بتایا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 1997 میں معلومات کی آزادی کو آرڈیننس کے طور پر نافذ کیا اور A -19کے خیبر پختونخواہ اور حکومت پنجاب نے 2013 میں جاننے کے حق کےقوانین منظور کیے- سندھ میں جاننے کے حق کا قانون آرڈینینس کی شکل میں 2006 میں منظور ہوا۔ تاہم اس میں خاصی کمزوریاں موجود ہیں اور اب انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ سی پی این ای کے رکن غلام نبی چانڈیو نے اپنے اختتامی خطاب میں یونیورسٹی انتظامیہ بھر پور شرکت اور مستقبل میں تعاون کی یقین دہانی پر شرکأ کا شکریہ ادا کیا۔